Friday, 21 May 2021

1-Corinthians Chapter 15 | Resurrections of Jesus Christ

1۔کر نتھیوں  باب   15

مسیح کی قیامت:

1۔ اب اے بھائیوں! میں تمہیں وُہی خُوشخبری جتائے دیتا ہُوں جو پہلے دے چُکا ہُوں جسے تُم نے قبول بھی کر لیا تھا۔ اور جس پر قائم بھی ہو۔ 2۔ اُسی کے وسیلہ سے تُم  کو نجات بھی مِلتی ہے بشر طیکہ وہ خوشخبری جو میں نے تمہیں دی تھی یاد رکھتے ہو۔

3۔ چُنانچہ میں نے سب سے پہلے تُم کو وہی بات پہنچا دی جو مجھے پُہنچی تھی کہ مسیح کِتاب مُقدس کے مُطابق ہمارے گُناہو ں کے لئے مُوا۔ 4۔ اور دفن ہُوا اور تیسرے دِن کِتاب مُقدس ک مُطابق جی اُٹھا۔ 5۔ اور کیفا کو اور اُس کے بعد اُن بارہ کو دِکھائی دِیا۔ 6۔ پھر پانچ سو سے زیادہ بھائیوں کو ایک ساتھ دِکھائی دیِا۔ جن میں سے اکثراب تک موجُود ہیں اور بعض سو گئے۔ 7۔ پھر بعقوب کو دِکھائی دِیا۔ پھر سب رسُولوں کو ۔

8۔ اور سب سے پیچھے مُجھ کو گویا ادھُورے دِنوں کی پیدایش ہُوں دِکھائی دِیا۔ 9۔ کیونکہ میں رسُولوں میں سب  سے چھوٹا ہوں بلکہ رسُول کہلانے کے لائق نہیں اِس لئے کہ میں نے خُدا کی کلیسا کو ستایا تھا ۔10۔  لیکن جو کچھ ہُوں خُدا کے فضل سے ہوں اور اُس  کا فضل جو مجھ  پر ہوا وہ بے فائدہ نہیں ہُوا بلکہ میں نے  اُن سب سے زیادہ محنت کی اور یہ میری طرف سے نہیں ہوئی بلکہ خُدا کے فضل سے جو مُجھ پر تھا۔ 11۔ پس خواہ میں ہوں خواہ وہ ہوں  ہم یہی مُنادی کرتے ہیں اور اِسی پر تُم ایمان بھی لائے۔

ہماری قیامت:

12۔پس جب مسیح کی یہ مُنادی کی جاتی ہے کہ وہ مرُدوں میں سے جی اُٹھا تو تُم میں سے بعض کِس طرح کہتے ہیں کہ مُردوں کی قیامت ہے ہی نہیں؟ 13۔ اگر مردوں کی قیامت نہیں تو مسیح بھی نہیں جی اُٹھا۔ 14۔ اور اگر مسیح نہیں جی اُٹھا تو ہماری  مُنادی بھی بے فائدہ ہے اور تمہارا ایمان بھی بے فائدہ ۔15۔ بلکہ ہم خُدا کے جُھوٹے گواہ ٹھہرے کیونکہ ہم نے خُدا کی بابت یہ گواہی دی کہ اُس نے مسیح کو جلادیا حالانکہ  نہیں جلایا اگر بالفرض مُردے نہیں جی اُٹھتے ۔16۔ اور اگرمُردے نہیں جی اُٹھتےتو مسیح بھی نہیں جی اُٹھا۔ 17۔ اور اگر مسیح نہیں جی اُٹھا تو تمہارا ایمان بے فائدہ ہے تُم  اب تک اپنے گُناہوں میں گرفتارہو۔ 18۔ بلکہ جو مسیح میں سو گئے ہیں وہ بھی ہلاک ہُوئے۔ 19۔ اگر ہم صرف اِسی زندگی میں مسیح میں اُمّیدرکھتے ہیں تو سب آدمیوں سے زیادہ بد نصیب ہیں۔

 


 


Appointed time for every thing that happened on earth

 

واعظ باب 3

ہر  بات کا ایک  وقت ہے:

1۔ ہر چیز کا ایک موقع اور ہر کام کا جو آسمان کے نیچے ہوتا ہے ایک وقت ہے۔

2۔ پیدا ہونے کا ایک وقت ہے اور مر جانے کا ایک وقت ہے۔  درخت لگانے کا ایک وقت ہے اور لگائے ہوئے کو اُکھاڑنے کا ایک وقت ہے۔

3۔ مار ڈالنے کا ایک وقت ہے اور شفا دینے  کا ایک وقت ہے۔  ڈھانے کا ایک  وقت ہے اور تعمیر کرنے  کا ایک وقت ہے۔

4۔ رونے  کا ایک وقت  ہےاور  اور ہنسنے  کا ایک  وقت  ہے۔غم کھانے  کا ایک  وقت ہے اور ناچنے کا ایک وقت ہے۔

5۔ پتھر پھینکنے کا ایک وقت ہےاور پتھر بٹورنے کا ایک وقت ہے۔ ہم آغوشی کا وقت ہے اور ہم آغوشی سے باز رہنے کا ایک وقت ہے۔ حاصل کرنے کا ایک وقت ہے اور کھو دینے کا ایک وقت ہے۔

رکھ چھوڑنے کا ایک وقت ہے اور پھینک دینے کا ایک وقت ہے۔

7۔ پھاڑنے  کا ایک وقت ہے اور سینے کا ایک وقت ہے۔ چُپ رہنے کا ایک وقت ہے اور بولنے کا ایک وقت ہے۔

 

 

8۔ محبت کا ایک وقت  ہے  اور عداوت کا ایک وقت ہے ۔جنگ کا ایک وقت ہے اور صلح کا ایک  وقت ہے۔

9۔ کام کرنے والے کو اُس سے جس میں وہ محنت کرتا ہے کیا حاصل  ہوتا ہے؟10۔  میں نے اُس سخت دُکھ کو دیکھا جو خُدا نے بنی  آدم کو دیا ہے کہ وہ مشقت میں مُبتلا رہیں۔ 11۔ اُس  نے ہر ایک  چیز کو اُس  کے وقت  میں  خُوب بنایا اور اُس  نے ابدیت کو بھی اُ ن کے دِل  میں جاگزین  کیاہے اس لئے کہ انسان  اُس کا م کو جو خُدا شروع سے آخر تک کرتا ہے دریافت نہیں کر سکتا۔ 12۔ میں یقیناً جانتا ہوں کہ اِنسان کے لئے یہی بہتر ہے کہ   خُوش وقت ہو اور جب تک جیتا رہے نیکی کرے۔ 13۔اور یہ بھی کہ ہر ایک اِنسان کھائے اور پئے اور اپنی  ساری محنت س فائدہ اُٹھائے۔ یہ بھی خُدا کی بخشش ہے۔ 14۔اور مُجھ کو یقین ہے کہ سب کُچھ  جو خُدا کرتا ہے ہمیشہ  کے لئے ہے۔ اُس میں کُچھ کمی بیشی نہیں ہو سکتی اور خُدا نے یہ اِس لئے کیا ہے کہ لوگ اُس کے حصُور ڈرتے رہیں۔ 15۔ جو کچھ ہے وہ پہلے ہو چُکا اور جو کُچھ ہونے کو ہے وہ بھی ہو چُکا اور خُدا گُذشتہ  کو پھر طلب کرتا ہے۔

دُنیا میں بے اِنصافی:

16۔ پھر میں نے دُنیا میں دیکھا کہ عدالت گاہ میں ظُلم ہے اور صداقت کے مکا ن میں شرارت کی عدالت

 

 

کرے گا ۔17۔ تب میں نے دِل میں کہا کہ خُدا راست بازوں اور شریروں کی عدالت کرے گا کیونکہ  ہر ایک  امر اور ہر کام کا ایک وقت ہے۔ 18 ۔ میں نے دِل میں کہا کہ یہ بنی آدم کے لئے ہے کہ خُدا اُن کو جانچے اور وہ سمجھ لیں کہ ہم خُود حیوان ہیں۔ 19۔کیونکہ جو کچھ بنی آدم پر گُذرتا ہے۔ ایک ہی حادثہ دونوں پرگُذرتا ہے جس طرح یہ مرتا ہے اُسی طرح وہ مرتا ہے۔ ہاں سب میں ایک ہی سانس ہے اور انسان کو حیوان پر کچھ فوقیت نہیں کیونکہ سب بُطلان ہے 20۔سب کے سب ایک ہی جگہ جاتے ہیں۔ سب کے سب خاک سے ہیں اور سب پھر خاک سے جا مِلتے ہیں۔ 21۔کون جانتا ہے کہ اِنسان کی رُوح اُوپر چڑھتی اور حیوان کی روح زمین کی طرف نیچے کو جاتی ہے؟22۔ پس میں نے دیکھا کہ انسان کے لئے اِس سے بہتر کُچھ نہیں کہ وہ اپنے کاروبار میں خُوش رہے اِس لئے کہ اُس کا بخرہ یہی ہے کیونکہ کون اُسے  واپس لائے گا کہ جو کُچھ  اُس کے بعد ہو گا دیکھ لے۔

Wednesday, 19 May 2021

 There is a time for everything:

1. There is an opportunity for everything and a time for everything that happens under the sky.

2. There is a time to be born and a time to die.

There is a time to plant a tree and a time to uproot what is planted.

3. There is a time to kill and a time to heal

 There is a time to tear down and a time to build.

4. There is a time to cry and a time to laugh.

Grief is a time to eat and a time to dance.

5. There is a time to throw stones and a time to gather stones.

 We have a time to embrace and we have a time to refrain from embracing.

There is a time to gain and a time to lose.

There is a time to leave and a time to throw away.

7. There is a time to tear and a time to chest.

There is a time to be silent and a time to speak.

8. There is a time of love and a time of enmity.

There is a time of war and a time of peace.

Time for Every Things in Urdu/Hindi/Punjabi

 

ہر  بات کا ایک  وقت ہے:

1۔ ہر چیز کا ایک موقع اور ہر کام کا جو آسمان کے نیچے ہوتا ہے ایک وقت ہے۔

2۔ پیدا ہونے کا ایک وقت ہے اور مر جانے کا ایک وقت ہے۔

درخت لگانے کا ایک وقت ہے اور لگائے ہوئے کو اُکھاڑنے کا ایک وقت ہے۔

3۔ مار ڈالنے کا ایک وقت ہے اور شفا دینے  کا ایک وقت ہے

 ڈھانے کا ایک  وقت ہے اور تعمیر کرنے  کا ایک وقت ہے۔

4۔ رونے  کا ایک وقت  ہےاور  اور ہنسنے  کا ایک  وقت  ہے۔

غم کھانے  کا ایک  وقت ہے اور ناچنے کا ایک وقت ہے۔

5۔ پتھر پھینکنے کا ایک وقت ہےاور پتھر بٹورنے کا ایک وقت ہے۔

 ہم آغوشی کا وقت ہے اور ہم آغوشی سے باز رہنے کا ایک وقت ہے۔

حاصل کرنے کا ایک وقت ہے اور کھو دینے کا ایک وقت ہے۔

رکھ چھوڑنے کا ایک وقت ہے اور پھینک دینے کا ایک وقت ہے۔

7۔ پھاڑنے  کا ایک وقت ہے اور سینے کا ایک وقت ہے۔

چُپ رہنے کا ایک وقت ہے اور بولنے کا ایک وقت ہے۔

8۔ محبت کا ایک وقت  ہے  اور عداوت کا ایک وقت ہے ۔

جنگ کا ایک وقت ہے اور صلح کا ایک  وقت ہے۔

Death, Our aim and Mission in this World in Urdu/Hindi/Punjabi

 

موت:

موت ہمارے لئے ایک پیغام ہے، یسوع مسیح نے موت کے ذریعے مر کر، تیسرے دن مردوں میں سے  جی اٹھا، اور پھر خُداوند یسوع مسیح آسمان پر اپنے فریشوں کے ساتھ آئیں گے۔

اور ہمارے لئے یہ پیغام ہے۔

پس  جب مسیح کی یہ مُنادی کی جاتی ہے کہ وہ مُردوں میں سے جی اُٹھا تو تُم میں  سے بعض کس طرح کہتے ہیں کہ مُردوں کی قیامت ہے ہی نہیں؟ 13۔  اگر مُردوں کی قیامت نہیں تو مسیح بھی نہیں جی اُٹھا۔ 14۔ اور اگر مسیح  نہیں جی اُٹھا تو ہماری  مُنادی بھی بے فائدہ ہے اور تمہارا ایمان بھی بے فائدہ۔15۔ بلکہ ہم خُدا کے جُھوٹے گواہ ٹھہرے کیونکہ ہم نے خُدا کی بابت یہ گواہی دی کہ اُس نے مسیح  کو جلا دیا۔

 1-کُرنتھیوں 15باب 12-15

 

 

پھل دار زندگی

اور جو اچھی زمین میں بویا گیا یہ وہ ہے جو کلام کو سُنتا اور سمجھتا ہے اور پھل بھی لاتا ہے۔ کوئی سو گُنا پھلتا ہے کو ئی ساٹھ گُنا کوئی تیس گُنا۔ 

Matthew 13:23

8۔ جو کوئی اپنے  جسم  کے لئے بوتا ہے وہ جسم سے ہلاکت کی فصل کاٹےگا اور جو رُوح کے لئے بوتا ہے وہ رُوح سے ہمیشہ کی زندگی کی فصل کاٹے گا۔ 9۔ ہم نیک کام کرنے میں ہِمت نہ ہاریں کیونکہ اگر بے دِل نہ ہوں گے تو عین وقت پر کاٹیں گے۔

Galatians 6:8-9

9۔اِسی لئے  جس دِن سے یہ سنا  ہے ہم بھی تُمہارے واسطے یہ دُعا کرنے اور درخواست کرنے سے باز نہیں آتے  کہ تم کمال رُوحانی حکمت اور سمجھ کے ساتھ اُس کی مرضی  کے علم سے معمُور ہو جاؤ۔

Colossians 1:9

ــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــ

پھل دار زندگی:

یہ کام آپ نے اپنے آپ سے شروع کرنا ہے اور دیکھے کہ خُدا آپ کو کس طرح روح سے ، اپنے کلام سے،  اور جو بھی آپ کی خُدمت ہے وہ آپ کو بتائے گا۔

خود، خاندان، بیوی بچے، اہل محلہ، ہماسائے،  جہاں آپ کام کرتے ہیں۔

 

دنیا میں آنے کا مقصد:

روٹی ، کپڑا اور مکان، گاڑی، دولت شہرت، اچھا مکام یا   خُدا کی مرضی

خُدا کی مرضی:

آپ خُدا کی آواز سُنو، میری بھیڑے میر ی آواز سُنتی ہیں۔

خُدا کی مرضی کیسے جان سکتے ہیں،

خُدا کا کلام پڑھ کر سُن کر  رسمی طور پر نہیں

خُدا کے خادموں کو سنے

اُس کی حمد و ستائش کریں

باتیں کریں، خُدا کے ساتھ ڈسکس کریں۔ ، اُس کے کلام کی باتیں کریں،

اُس کی قدرت پر غور کریں،

 خُدا کے ساتھ بات چیت کریں، خُدا سے پوچھے،  تو یقنی طور پر خُداآپ کو اپنی مرضی بتائے گا۔

Discuss

بچوں کے مستقبل کے بارے میں

شادی کے بارے میں،

آپ کی  زندگی میں خُدا کی  مرضی کیا ہے؟ دُعا میں ٹھہرے، مقدسین سے دُعا کی درخواست کریں۔

رسمی مذہب، رسمی مسیحی:

 

مل لےبندیا ملنا ای جو

ایمانداراں لئی نہیں دوجی موت

یسوع آوے ساڈے کول

پاواں بدن جلالی جاواں یسوع کول

ترجے تہاڑے اٹھ کھولونا

میرے یسوع دا نہں جے کسے دے نال کوئی جوڑ

موڑن اپنی اپنی امانت تیوں سارے

بس روح تے سچائی نال میرا کلام تو ں پھیلانا

بائیبل  دسدی  موتاں دو

پہلی موت آنی سبھناں تے

للکار تے مقرب فرشے نال

تے بھاویں میں ہواں زندا یا مردہ

اوہدہ جمنا ں مونا تے جیوناں

حنوق دی گل وکھری تے ایلیا دی گل ہور

اگ پتال تے نالے پانی سارے

آغا تینوں میں اپنے سجے پاسے بٹھاواں

 

 

 

 

1 Corinthians 15: 12-15

 Death is a message to us, Jesus Christ died through death, rose from the dead on the third day, and then the Lord Jesus Christ will come to heaven with His freshmen.

And this is the message for us.

So when Christ is preached that He rose from the dead, how can some of you say that there is no resurrection of the dead? 13 If there is no resurrection of the dead, then Christ has not risen. 14. And if Christ has not been raised, then our preaching is in vain and your faith is in vain. Rather, we are false witnesses of God because we testified about God that He burned Christ.

 1 Corinthians 15: 12-15


Life

And that which is sown in good ground is he that heareth the word, and understandeth it, and bringeth forth fruit; Some grow a hundred times, some sixty times, some thirty times.

Matthew 13:23

8. He that soweth to his flesh shall of the flesh reap corruption; and he that soweth to the Spirit shall of the Spirit reap everlasting life. 9. Let us not give up in doing good, for if we do not give up, we will reap at the right time.

Galatians 6: 8-9

9. For this reason, since the day we heard it, we have not ceased to pray and beseech you that you may be filled with the knowledge of his will with perfect spiritual wisdom and understanding.

Colossians 1: 9


Friday, 7 May 2021

Matthew 6 | First Sermon of Jesus Christ | Giving Prayer and Fasting

 

متی رسول کی انجیل باب 6



خیرات کے بارے  میں تعلیم:

1۔خبردار اپنے راستبازی کے کا م آدمیوں کے سامنے دِکھانے کے لئے نہ کرو۔ نہیں تو تمہارے باپ کے پاس جو آسمان پر ہے تمہارے لئے کُچھ اجر نہیں ہے۔ 2۔  پس جب تو خیرات کرے تو اپنے آگے نر سِنگا نہ بجوا جیسا ریا کار عبادت خانوں  اور کُوچوں میں کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کی بڑائی کریں۔ میں تُم سے سچ کہتا ہوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے ۔ 3۔ بلکہ جب تُو خیرات کرے تو جو تیرا دہنا ہاتھ کرتا ہے اُسے تیرا بایاں ہاتھ نہ جانے ۔ 4۔ تا کہ تیری خیرات پوشیدہ رہے ۔ اِس صُورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا۔

دُعا کے بارے میں تعلم:

5۔اور جب تُم دُعا کرو تو ریا کاروں کی مانند نہ بنو کیونکہ وہ عبادت خانوں میں اور بازاروں کے موڑوں پر کھڑے ہو کر دُعا کرنا پسند کرتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو دیکھیں۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں  کہ وہ اپنا اجر پا چُکے ۔ 6۔ بلکہ جب تُو دُعا کرے تواپنی کوٹھری میں جا اور دروازہ بند کر کے اپنے باپ  سے جو پوشیدگی میں ہے دُعا کر۔ اِس صُورت میں  تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا ہے تجھے بدلہ دے گا۔

 

 

7۔اور دُعا کرتے وقت غیر قوموں کے لوگوں کی طرح بک بک نہ کرو کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ ہمارے بہت بولنے کے سبب سے ہماری سُنی جائےگی۔8۔پس اُن کی مانند  نہ بنو کیونکہ تمارا باپ تمہارے  مانگنے  سے پہلے ہی جانتا ہے کہ تُم کَن کِن چیزوں کے مُحتاج ہو۔ 9۔ پس تُم اِس طرح دُعا کیا کرو کہ اے ہمارے باپ تُو جو آسمان پر ہےتیرا نام پاک مانا جائے10۔تیری بادشاہی آئے۔تیری مرضی  جیسی آسمان پر پُوری ہوتی ہے زمین پر بھی ہو۔ 11۔ہماری روز کی روٹی آج  ہمیں دے۔12۔اور جس طرح ہم نے اپنے قرض داروں کو معاف کیا ہے تُو بھی ہمارے  قرض ہمیں مُعاف کر۔ 13۔ اور ہمیں آزمایش میں نہ لا بلکہ بُرائی  سے بچا کیونکہ بادشاہی اور قُدرت اور جلال ہمیشہ تیرےہی ہیں۔آمین۔14۔اِس لئے کہ اگر تُم آدمیوں کےقصور مُعاف  کرو گے تو تُمہارا آسمانی باپ بھی تُم کو معاف کرےگا۔ 15۔اور اگر تُم آدمیوں کے قصور مُعاف نہ کرو گے تو تمہارا باپ بھی تُمہارے قصُور مُعاف نہ کرے گا ۔

روزہ  کے بارے  میں تعلیم:

16۔اور جب تُم روزہ رکھو تو ریا کاروں کی طرح اپنی صُورت اُداس نہ بناؤ کیونکہ  وہ اپنا مُنہ بگاڑتے ہیں تاکہ لوگ اُن کو روزہ دار جانیں۔ میں تُم سے سچ کہتا ہُوں کہ وہ اپنا اجر پا چُکے ۔ 17۔ بلکہ جب تُو روزہ رکھے تو اپنے سر میں تیل ڈال اور مُنہ دھو۔18۔ تاکہ آدمی نہیں بلکہ تیرا باپ جو پوشیدگی میں ہے تجھے روزہ دار جانے ۔اِ س صُورت میں تیرا باپ جو پوشیدگی میں دیکھتا  تجھے بدلہ دے گا۔

 

آسمان پر خزانہ:

19۔اپنے واسطے زمین پر مال جمع نہ کرو جہاں کیڑا اور زنگ خراب کرتا ہے اور جہاں چور نقب لگاتے  اورچُراتے ہیں۔ 20۔ بلکہ اپنے لئے آسمان پر مال جمع کرو جہاں  نہ کیڑا خراب کرتا ہے نہ زنگ اور نہ وہاں چور نقب لگاتے اور چُراتے ہیں۔ 21۔کیونکہ جہاں تیرا مال ہے وہیں تیرا دِل بھی لگا رہے گا۔

بدن کا چراغ:

بدن  کا چراغ آنکھ ہے۔ پس اگر تیری آنکھ درُست ہو تو  تیرا سارا بدن روشن ہو گا۔23۔ اور اگر  تیر ی آنکھ خراب ہو تو تیرا سارا بدن تارِیک ہو گا۔ پس اگر وہ روشنی جو تجھ میں ہے تا ریکی  ہو تو تاریکی کیسی بڑی ہو گا!

خُدا اور املاک :

24۔ کوئی آدمی دو مالکوں کی خدِمت نہیں کر سکتا کیونکہ یا تو ایک سے عداوت رکھّے گا اور دُوسرے سے محبت۔ یا ایک سے مِلا رہے گا اور دُوسرے  کو ناچیز جانے گا۔ تُم خُدا اور دولت  دونو ں کی خِدمت نہیں کر سکتے۔

 25۔اِس  لئے میں تُم سے کہتا ہُوں کہ اپنی جان کی فکر  نہ کرنا کہ ہم کیا کھائیں  گے یا کیا  پیں گے؟ اور نہ اپنے بد ن کی  کہ کیا پہنیں  گے؟ کیا جان خُوراک سے اور بدن  پوشاک  سے بڑھ  کر نہیں؟26۔ ہوا کے پرندوں کو دیکھو کہ نہ بوتے ہیں نہ کاٹتے ۔ نہ کوٹھیوں میں جمع کرتے ہیں  تو بھی  تُمہارا آسمانی باپ اُن کو کھلاتا ہے۔



 کیا تُم اُن سے زیادہ قدر نہیں  رکھتے ؟27۔ تُم  میں ایسا  کون  ہے جو فکر کر کے اپنی عُمر میں ایک گھڑی بھی بڑھا سکے؟

28۔ اور  پوشاک کے لئے کیوں فکر کرتے ہو؟ جنگی سوسن  کے درختوں کو غور سے دیکھو کہ وہ کس طرح  بڑھتے  ہیں ۔ وہ  نہ محنت  کرتے  نہ کاٹتے ہیں۔ 29۔  تو بھی میں تُم سے کہتا ہُوں  کہ سُلیمان  بھی باؤجود اپنی  ساری شان و شوکت  کے اُن  میں سے کِسی  کی مانند مُبلّس نہ تھا۔ 30۔  پس  جب خُدا مُیدان کی گھاس کو جو آج ہے  اور کل تنو رمیں جھونکی  جائے گی۔ ایسی  پوشاک  پہنتا  تا ہے تو اے کم اِعتقاد و تُم  کو کیوں  نہ پہنائے گا؟ 31۔  اِس  لئے فکر  مند ہو کر یہ نہ کہو کہ ہم کیا کھائیں گے یا کیا پیں گے۔  یا کیا پہنیں گے؟ 32۔  کیونکہ اِن سب چیزوں کی تلاش میں  غیر قومیں رہتی ہیں اور تمہارا آسمانی  باپ  جانتا ہے کہ  تُم اِن  سب چیزوں  کے مُحتاج  ہو۔ 33۔  بلکہ تُم پہلے اُس کی بادشاہی  اور اُس  کی راستبازی  کی تلاش کرو تو یہ سب چیزیں  بھی  تُم  کو مل  جائیں  گی۔ 34۔ پس کل کے لئے فکر نہ کرو کیونکہ کل کا دِن  اپنے لئے آپ فکر کر لے گا۔ آج لے لئے آج ہی کا دُکھ کا فی ہے۔